21 فروری 2012 - 20:30

شام کے خلاف مداخلت پسندانہ اقدامات کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے کہا ہے کہ اگر بشار اسد دباؤ کے سامنے نہ جھکے تو ممکن ہے امریکہ شام کے خلاف زیادہ اقدامات انجام دے۔

ابنا: یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی کہ جب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن رواں ہفتے کے دوران تیونس جانے والی ہیں۔

چوبیس اور پچیس فروری کو تیونس میں شام کے دوستوں کے گروپ کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس کو منعقد کرنے میں اصل ہاتھ امریکہ کا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ شام کے دوستوں کے گروپ کا اجلاس بشار اسد کی حکومت کو کمزور کرنے اور شام کی حکومت کے خلاف مزید اقدامات انجام دینے کے لیے واشنگٹن کی ایک کوشش ہے۔

گزشتہ سال کے اوائل سے کہ جب شام کے عوام نے اپنے بعض مطالبات منوانے کے لیے اس ملک کے قوانین میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تو امریکہ نے اس صورت حال سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے شام کی حکومت کو گرانے کے لیے کمر کس لی۔

گزشتہ مہینوں کے دوران امریکی حکام نے عرب ممالک کو اکسا کر اور اسی طرح شام کے مخالف گروہوں کے ساتھ تعلقات قائم کر کے اس ملک کے داخلی امور میں واضح طور پر مداخلت کرنا شروع کر دی ہے۔

شام کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اسی طرح جنرل اسمبلی میں لے جانا اور شام کے خلاف ایک بین الاقوامی محاذ تشکیل دینا شام اور خود بشار اسد کے خلاف امریکی سازش کا ایک حصہ تھا۔

اس دوران امریکہ شام کے مخالف گروہوں کو مسلح کر کے علانیہ طور پر اس ملک میں بدامنی اور دہشت گردی کے واقعات کے پس پردہ ملک کے طور پر سامنے آیا گيا۔امریکی سینیٹر جان مک کین نے اپنے حالیہ دورۂ افغانستان کے دوران واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ شام کے دیرالزور علاقے میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے منصوبے میں شریک ہے اور وہ شام میں بدامنی اور دہشت گردی کے اقدامات کو جاری رکھنے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکی قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک خود سے شام کے خلاف اقدام نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ امریکہ کی رہنمائی اور اشارے پر ہتھیار اور پیسہ شام میں بھیج رہے ہیں اور مسلح گروہوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایک اعلی امریکی عہدیدار کا یہ بیان شام کے بارے میں امریکہ کی مخاصمانہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکہ کئی برسوں سے اس کوشش میں تھا کہ بشار اسد کی حکومت کو کمزور یا اسے گرا کر دمشق کی قیادت میں صہیونیت مخالف مزاحمتی محاذ پر ضرب لگائي جائے۔ اس وقت بھی خاص علاقائی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے امریکہ اس منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

سلامتی کونسل میں روس اور چین کے ویٹو کی وجہ سے امریکہ اور بعض عرب ملکوں کے شام مخالف منصوبوں کی ناکامی کے بعد امریکہ نے بشار اسد کی اقتدار سے علیحدگي کا منصوبہ پیش کیا اور اس وقت بھی وہ بشار اسد کے مخالفین کو مالی اور فوجی امداد دے کر اس منصوبے پر عمل کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ امریکہ شام میں اپنی مداخلت پر پردہ ڈالنے کے لیے بعض اوقات شام کے عوام اور ان کے مطالبات کی حمایت کے نعرے لگاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ علاقے میں صرف اپنے اور صہیونی ریاست کے مفادات کے چکر میں ہے اور اپنے ان مفادات کو حاصل کرنے کے لیے وہ شام کو ہر ممکن طریقے سے بھینٹ چڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔........

/169